نعت دو عالم کا امداد گار آ گیا ہے کی تشریح
اس آرٹیکل میں نعت دو عالم کا امداد گار آ گیا ہے کی تشریح پیش کی جا رہی ہے۔
شعر 1
دو عالم کا امداد گار آ گیا ہے، امین آیا، غم گسار آ گیا ہے
یہ شعر رسولِ اکرم ﷺ کی آمد کی بشارت دے رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دونوں جہانوں (دنیا اور آخرت) کے لیے فریاد رس، مددگار ہستی تشریف لا چکی ہے۔ آپ ﷺ وہ ہیں جو صرف ایک قوم، نسل یا زمانے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر آئے۔ ’’امین‘‘ کا لقب رسولِ پاک ﷺ کا خاصہ ہے جو کہ آپ کے اعلیٰ اخلاق اور دیانت داری کو ظاہر کرتا ہے۔ ’’غم گسار‘‘ کا مطلب ہے وہ ہستی جو غم زدہ دلوں کا سہارا ہو، جو دکھوں کو دور کرے۔ شاعر کی مراد یہ ہے کہ انسانیت کے ہر کرب، ہر دکھ، ہر مسئلے کا مداوا بن کر نبی پاک ﷺ دنیا میں جلوہ گر ہو چکے ہیں۔ یہ صرف ظاہری نہیں بلکہ روحانی سطح پر بھی ایک عظیم انقلاب کی آمد ہے۔
شعر 2
غریبوں کی جاں کو، یتیموں کے دل کو، سکوں آ گیا ہے، قرار آ گیا ہے
یہاں شاعر حضور ﷺ کی آمد کو انسانیت کے محروم طبقات کے لیے راحت اور سکون کا باعث قرار دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے معاشرے کے غریب، یتیم اور مظلوم افراد کو عزت دی، ان کی دلجوئی کی اور انہیں وہ مقام عطا کیا جو اس سے قبل انہیں میسر نہ تھا۔ شاعر بتاتا ہے کہ جو دل درد سے تڑپتے تھے، اب انہیں سکون مل گیا ہے۔ یتیموں کے دل، جن میں خوف، تنہائی اور بے بسی بسی ہوئی تھی، اب قرار پا چکے ہیں کیونکہ رسولِ رحمت ﷺ ان کے ہمدرد بن کر آ گئے ہیں۔ اس شعر میں اسلامی معاشرت کا وہ پہلو اجاگر کیا گیا ہے جہاں کمزور اور ناتواں کو بھی عزت دی جاتی ہے، اور یہ سب نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کا ہی اثر ہے۔
شعر 3
اصولِ محبت ہے پیغام جس کا، وہ محبوبِ پروردگار آ گیا ہے
یہاں شاعر بتاتا ہے کہ حضور ﷺ کا پیغام سراسر محبت، رواداری اور اخلاص پر مبنی ہے۔ اسلام کی بنیاد محبت الٰہی اور محبتِ انسانیت پر ہے، اور یہ پیغام لے کر آنے والے نبی کریم ﷺ خود اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین بندے ہیں۔ ’’محبوبِ پروردگار‘‘ کی ترکیب سے شاعر نے نہایت خوبصورتی سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جس ہستی کی رضا میں اللہ کی رضا ہے، وہی رسول ﷺ اب دنیا میں جلوہ افروز ہو چکے ہیں۔ شاعر یہ باور کراتا ہے کہ نبی کا پیغام صرف قوانین اور احکام کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ، جیتا جاگتا راستہ ہے جو انسان کو محبت کے ذریعے خالق تک لے جاتا ہے۔
شعر 4
اب انساں کو انساں کا عرفان ہو گا، یقیں ہو گیا ہے، اعتبار آ گیا ہے
یہ شعر ایک انقلابی تبدیلی کی نوید دیتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی آمد کے بعد انسان نے خود کو پہچانا، اپنے مقام، مرتبے اور اصل حقیقت کو جانا۔ اس سے قبل انسانوں کے درمیان اونچ نیچ، نسل، قبیلہ، رنگ و نسب کی بنیاد پر تقسیم تھی، مگر حضور ﷺ نے انسانیت کو برابری کا سبق دیا۔ ’’یقیں ہو گیا ہے‘‘ کا مطلب ہے کہ انسان اب اپنے رب کی پہچان پا چکا ہے، اور ’’اعتبار آ گیا ہے‘‘ سے مراد ہے کہ لوگوں کو سچائی، عدل، اور رحم پر یقین ہونے لگا ہے۔ معاشرے میں اعتماد بحال ہوا، جو صرف حضور ﷺ کے پیغامِ حق اور اخلاقِ حسنہ کے ذریعے ممکن ہوا۔
شعر 5
بُجھے گا نہ جس کا چراغِ محبت، وہ پیغمبرِ ذی وقار آ گیا ہے
یہاں شاعر رسولِ اکرم ﷺ کے پیغام کو ایک چراغ سے تشبیہ دیتا ہے، جو کبھی بجھنے والا نہیں۔ یہ چراغ محبت، رحم، اخلاص اور امن کا چراغ ہے۔ جس طرح چراغ اندھیرے کو دور کرتا ہے، اسی طرح نبی کریم ﷺ کی تعلیمات جہالت، ظلم اور نفرت کے اندھیروں کو ختم کرتی ہیں۔ ’’ذی وقار‘‘ یعنی عظمت اور شان والا، ایسا نبی آ گیا ہے جو صرف وقت کا رہنما نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے روشنی کا ذریعہ ہے۔ اس شعر میں شاعر نے نبی کریم ﷺ کی دائمی محبت اور قیادت کو بیان کیا ہے، جو ہمیشہ قائم رہے گی، ہر دور میں دلوں کو روشن کرے گی۔
شعر 6
زمانے کو اب اپنی منزل مُبارک، کہ اِک خضرِ صد رہ گزار آ گیا ہے
یہ شعر انتہائی دلنشین اختتامیہ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اب انسانیت کو اپنی منزل مبارک ہو، کیونکہ وہ رہنما آ گیا ہے جو سینکڑوں راہوں کا رہبر ہے۔ ’’خضر‘‘ کو رہنمائی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو مسافروں کو صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ شاعر یہاں رسول اللہ ﷺ کو ایسا ہی خضر قرار دے رہا ہے، جو صرف ایک راستے کی نہیں بلکہ ہر ممکن راہِ ہدایت کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہ شعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ انسان اب بھٹکنے سے بچ گیا، اب راستے واضح ہو چکے ہیں اور نبی ﷺ کی رہنمائی میں زندگی کے ہر موڑ پر روشنی میسر ہے۔
Discover more from HEC Updates
Subscribe to get the latest posts sent to your email.