Global search for 'wp-content' from server root (/)

This may take a few minutes...


Found folders: 4

/home/hecupdates/tmp/pagespeed_cache/v3/hecupdates.com/https,3A/,2Fhecupdates.com/wp-content
/home/hecupdates/tmp/pagespeed_cache/v3/hecupdates.com/https,3A/,2Fhecupdates.com/ranjha/wp-content
/home/hecupdates/tmp/pagespeed_cache/rname/ic_74LUqVXI6Cuk6L61EQRv/https,3A/,2Fhecupdates.com/wp-content
/home/hecupdates/htdocs/hecupdates.com/wp-content
نہ اور نا میں فرق اور استعمال - HEC Updates

نہ اور نا میں فرق اور استعمال

نہ اور نا میں فرق اور استعمال

اردو زبان میں “نہ” اور “نا” دونوں استعمال ہونے والے الفاظ ہیں، مگر ان کے استعمال اور معانی میں واضح فرق ہے۔ اگرچہ بولنے میں یہ ایک جیسے محسوس ہو سکتے ہیں، مگر اردو گرامر میں ان کی الگ پہچان اور استعمال کے اصول موجود ہیں۔ اس بلاگ میں ہم ان دونوں کے استعمال کو مثالوں کے ذریعے سمجھیں گے تاکہ فرق کو واضح طور پر جان سکیں۔

نہ کا استعمال

“نہ” اردو زبان میں منفی معنوں یا “نہیں” اور “مت” کے مترادف کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ جملے کے شروع یا درمیان میں آتا ہے، اور ہمیشہ نفی کو ظاہر کرتا ہے۔ “نہ” کبھی بھی جملے کے آخر میں نہیں آتا۔

مثالیں:۔

نہ کرو، نہ سنو، نہ کہو، نہ بیٹھو۔
نہ تم آئے، نہ کھانا کھایا۔
یہاں نہ بیٹھو۔

ادبی مثالیں:۔

نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا۔
نہ چھڑا سکو گے دامن، نہ نظر بچا سکو گے۔

نا کا استعمال

نا کا استعمال اردو میں اس وقت ہوتا ہے جب کسی بات کی تاکید کی جائے، خاص طور پر جملے کے آخر میں۔ “نا” کی ایک خاص پہچان یہ ہے کہ یہ کبھی بھی جملے کے آغاز میں نہیں آتا۔

مثالیں:۔

میرے گھر آؤ نا۔
جانے دیجیے، بچہ ہے نا۔

آسان پہچان:۔

نا” کو جملے سے نکالنے پر معنی میں کوئی خاص فرق نہیں آتا، جبکہ “نہ” کو نکالنے سے جملے کا مطلب الٹ ہو سکتا ہے۔

مثال:۔

وہی ہوا نا جس کا ڈر تھا۔
اس جملے سے “نا” نکال دینے سے معنی میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
Index